بچوں کے سیکھنے اور آپس میں بانٹنے کے لئے صحت کے 100 عدد پیغامات صحت کی تعلیم کے عام اور معتبر پیغامات ہیں جن کا ہدف 8-14 سال کے بچے ہیں۔. لہذا اس میں10-14 سال تک کے نو عمر جوان شامل ہیں. ہم محسوس کرتے ہیں کہ یہ بات خاص طور پرمفید اور اہمیت کی حامل ہے کہ 10-14 سال کی عمر کے نو عمر جوانوں کو باخبر رکھے جانے کی یقین دہانی کی جاۓ کیونکہ اس عمر کا طبقہ اکثر و بیشتر اپنے اہلِ خانہ میں چھوٹے بچوں کی دیکھ بھال کر رہا ہوتا ہے. اس کے علاوہ، اس طرح سے اپنے اہلِ خانہ کی مدد کرنے کیلئے جو کام وہ سر انجام دے رہے ہیں اس کو سراہنا اور اس سے آگاہی حاصل کرنا بہت اہم ہے۔

یہ100 پیغامات ان 10 میسجز پر مشتمل ہیں جن میں سے ہر ایک صحت کے 10 کلیدی موضوعات کا حامل ہے:ملیریا، دست، غذائیت، کھانسی، ٹھنڈ کا لگنا اورعلالت، آنتوں کے طفیلی کیڑے، پانی اورصحت و صفائی، مصئونیت(ایمونائزیشن)، ایچ آئی وی اور ایڈزاورحادثات، چوٹ اور ابتدائی ایامِ طِفلی کے دوران نشوونما.. صحت کے عام پیغامات والدین اور صحت کے ماہرین کے لئے بچوں کے ساتھ گھرمیں، اسکولوں میں، کلبوں اور کلینکس میں استعمال کرنے کے لئے ہیں.

موضوع نمبر 1 میں شامل 10 پیغامات یہ ہیں: بچوں کی دیکھ بھال

  1. کھیلنے میں، کھلکھلانے میں، بات کرنا، ہنسنا اور بچوں اور نوجوان بچوں کے ساتھ گانے میں، جتنا آپ کر سکتے ہیں۔

  2. بچوں اور نوجوان بچوں میں آسانی سے غصہ اور ڈرپیدا ہو کر آنسو بہہ نکلتے ہیں اوروہ اپنے جذبات کی وضاحت نہیں کر پاتے. لہذا ہمیشہ مہربان رہیں۔
  3. نوجوان بچے جلد سیکھتے ہیں: کیسے چلنا ہے، آوازیں نکالنا، کھانا اور پینا۔ ان کی مدد کریں لیکن انہیں محفوظ غلطیاں بھی کرنے دیں۔
  4. تمام لڑکیاں اور تمام لڑکےاتنے ہی اہمیت کے حامل ہیں جتنا کوئی دوسرا۔ ہر ایک سے اچھی طرح سے پیش آیئں، خاص طور پر ان بچوں سےجو بیمار یا معذور ہیں.
  5. نوجوان بچے ان لوگوں کو نقل کرتے ہیں جو ان کے ارد گرد ہوتے ہیں۔ اپنے آپ کا مشاہدہ کیجیے، ان کے سامنے اچھے برتاؤ کا مظاہرہ کریں اور انھیں اچھی روش سے روشناص کرائیں ۔
  6. جب بچے روتے ہیں، تو اس کی ایک وجہ (بھوک، خوف، درد) ہوتا ہے. وجہ کو تلاش کرنے کی کوشش کیجیے.
  7. نوجوان بچوں کو اسکول میں نمبر اور لفظ کے کھیل، پینٹنگ اور ڈرائنگ کو سیکھنے میں مدد دیں۔ ان کو کہانیاں، گانا گانا اور رقص کرنا سکھائیں.
  8. ایک گروپ میں، دیکھیں اور نوٹ بک میں ریکارڈ کریں کہ کیسے ایک چھوٹا سا بچہ بڑا ہوتا ہے اورکب وہ سب سے پہلے مثال کے طور پر بولنا، چلنا اور باتیں کرنا شروع کرتا ہے۔
  9. بالغ اور بڑے بچوں کو ان بیماریوں سے بچنے میں مدد ملے گی جن کو وہ آگے لے کر چلنے والے ہیں یہ جانچتے ہوئے کہ چھوٹے اور نوجوان بچے صاف ستھرے ہیں، (خاص طور پر ہاتھ اور چہرے) صاف پانی پیتے ہیں اور کافی حد تک اچھا کھانا کھاتے ہیں.
  10. بچوں اورنوجوان بچوں کی دیکھ بھال کیجیے لیکن اپنے آپ کو نہ بھولیں۔ آپ بھی اہم ہیں.

صحت کے ان پیغامات کاصحت کے ماہر معلمین اور طبی ماہرین کی طرف سے جائزہ لیا گیا ہے اور یہ ORB ہیلتھ ویب سائٹ پر بھی دستیاب ہیں: www.health-orb.org.

بچوں کی سرگرمیوں کے بارے یہ کچھ تجاویز ہیں کہ جن سے بچوں کے لئے اس موضوع کو بہتر طور پر سمجھنے اور ان پیغامات کو دوسروں کے ساتھ بانٹنے میں مدد مل سکتی ہے۔۔

بچوں کی دیکھ بھال: بچے کیا کر سکتے ہیں؟

  • اپنی خود کی زبان میں اپنے الفاظ کا استعمال کرتے ہوۓ بچوں کی دیکھ بھال کے بارے میں پیغامات تیار کریں!

  • پیغامات کو یاد کرلیں تاکہ ہم کبھی بھی انہیں نہ بھولیں!پیغامات کو یاد کرلیں تاکہ ہم کبھی بھی انہیں نہ بھولیں!
  • پیغامات کو دوسرے بچوں اور اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ بانٹیں!
  • “لڑکے” اور “لڑکیوں” کے گروپوں میں تقسیم ہو جائیں؛ لڑکے “لڑکیوں کے کھیل” اور لڑکیاں “لڑکوں کے کھیل” کھیلیں۔ اس کے بعد، دونوں گروپوں کو کھیلوں پر بحث کرنی چاہیے۔ مثال کے طور پر، کیا آپ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ان کھیلوں کو لڑکوں یا لڑکیوں کے نام سے پکارا جائے ؟ کیوں یا کیوں نہیں؟
  • گھر میں یا اسکول میں ‘اچھے’ اور ‘برے’ رویے پر بحث کیجیے کہ وہ اس طرح کیوں بیان کیا جاتا ہے۔
  • دوسروں کو دکھانے کے لئے پوسٹرز بنائیں کہ ہم اس موضوع کے بارے میں کیا جانتے ہیں ۔
  • گھر، اسکول یا معاشرتی گروپوں میں کھلونا سازی کے مقابلوں کا انعقاد کیجیےجیسا کہ موبائل، جھنجھنا، عمارت کے بلاکس، گڑیا، جانوروں اور تصاویری کتب۔
  • ڈرائنگز اور پوسٹروں کی مدد سے بیماریوں سے بچنے کے لیے سادہ اقدامات کر کے دیکھائیں جیسا کہ ہاتھوں کو صابن سے دھونا، حفاظتی ٹیکے لگوانا، اور متوازن غذا کھانا۔
  • دیکھ بھال کرنے والوں کا نوجوان بچوں کے ساتھ کھیل کے متعلق ایک مختصر کھیل بنائیں۔ یہ دو ماؤں کے درمیان بات چیت کو بھی دکھا سکتے ہیں؛ ایک وہ جو اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ نوجوان بچوں کو خاموش رہنا چاہئے اور دوسری وہ جو مزے کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ خاموش تمثیل / جذبات پر عمل کریں/ اپنے احساسات کا چہرے اور اشاروں کے ذریعے اظہار کیجیے۔ دوسرے بچے اس بات کا اندازہ لگائیں کہ احساس یا جذبات کیا ہوتے ہیں۔
  • والدین اور دادا دادی سے پوچھیں کہ وہ کیا چیزیں جو بچوں کوہنساتی اور رلاتی ہیں اور جو کچھ بھی وہ بتائیں کلاس کے ساتھ اسکا اشتراک کیجیے۔
  • ایک کلاس یا گروپ مقامی آبادی سے ایک بچے کولے کراپنا سکتی ہے. ماں ہر ماہ گروپ کا دورہ کرکے انھیں بتا سکتی ہے کہ بچہ کس طرح بڑا ہو رہا ہے.
  • ایک گانا تیار کریں جو بیماریوں سے بچاؤ کے سادہ اقدامات بیان کرے۔ جیسا کہ صاف اور پینے کا محفوظ پانی، اوراس گانے کو گھر پر نوجوان بہن بھائیوں کے ساتھ مل کرگائیں۔
  • جوان بچے والدین سے انٹرویو کریں اورپوچھیں کہ چھوٹے بچوں اورنوجوان بچوں کی دیکھ بھال کرتے وقت ان کے لئے سب سے زیادہ مشکل کیا تھا، اور سب سے زیادہ کس چیز نے مدد کی.
  • ایک ہیلتھ کارکن یا ایک سائنس کے استاد سے پوچھیں تاکہ وہ آپ کو مزید بتائیں کہ ایک بچے کے دماغ کی نشوونما کس طرح ہوتی ہے۔
  • بڑے بچے اپنی کمیونٹی کے بزرگوں سے گانا، کہانیوں اور کھیلوں کو سیکھانے کے لیے پوچھ سکتے ہیں، اور چھوٹے بچوں اورنوجوان بچوں کے لئے گانا گا سکتے ہیں۔
  • بچے اپنے بڑوں سے پوچھ سکتے ہیں کہ وہ کیا سمجھتے ہیں کہ بچوں کو بیماریوں سے بچنے کے لئے کیا کرنا ضروری ہے.

مزید معلومات کے لئے برائے مہربانی www.childrenforhealth.org یا clare@childrenforhealth.org سے رابطہ کریں

اُردُو‎ Home